گناہ گار

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - [ شریعت ]  وہ جو ایسا فعل کرے جو شرعاً ممنوع ہو، وہ جو ایسا کام کرے جس کا حکم نہ ہو، عاصی، دوشی، پاپی۔ "لاحقوں کی بھی علاحدہ لکھا جائے گا، جیسے . گناہ گار۔"      ( ١٩٧٤ء، اردو املا، ٤٧٠ ) ٢ - مجرم، خطاوار۔ "ہم کس قدر کچے گناہ گار اور پکے ناتجربہ کار ہیں۔"      ( ١٩٨٨ء، تبسم زیر لب، ١٤١ )

اشتقاق

فارسی زبان میں اسم 'گناہ' کے ساتھ 'گار' لاحقۂ فاعلی لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ شریعت ]  وہ جو ایسا فعل کرے جو شرعاً ممنوع ہو، وہ جو ایسا کام کرے جس کا حکم نہ ہو، عاصی، دوشی، پاپی۔ "لاحقوں کی بھی علاحدہ لکھا جائے گا، جیسے . گناہ گار۔"      ( ١٩٧٤ء، اردو املا، ٤٧٠ ) ٢ - مجرم، خطاوار۔ "ہم کس قدر کچے گناہ گار اور پکے ناتجربہ کار ہیں۔"      ( ١٩٨٨ء، تبسم زیر لب، ١٤١ )

جنس: مذکر